آسمان پر شائد اتنے ستارے نہ ہوں جتنے دنیا میں جھوٹے اور ناقص شیوخ پائے جاتے ہیں۔ تم کبھی بھی کسی سچے مرشد کو کسی ایسے مرشد سے مت ملانا جو نفس کا پجاری ہو اور اپنی ذات کا اسیر ہو۔ ایک سچا مرشد کبھی بھی تمہیں اپنی ذات کا اسیر بنانے کی کوشش نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنے نفس کیلئے تم سے تابعداری اور تعریف و تو صیف کا تقاضا کرے گا۔ بلکہ اسکے برعکس وہ تمہیں تمہاری اصل اور حقیقی شخصیت سے متارف کروائے گا۔ سچے اور کامل مرشد تو کسی شیشے کی مانند شفا ف ہوتے ہیں تاکہ خدا کا نور ان میں سے کامل طور پر چِھن کر تم تک پہنچ سکے۔
تذکرہ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز رحمتہ الله علیہ
حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز رحمۃ اللہ علیہبرصغیر کے ممتاز صوفی بزرگ ،علوم ظاہر و باطن جامع اور بلند پایہ کتب کے مؤلف ہیں۔ ولادت آپ کی ولادت 4 رجب 720ھ بمطابق 1321ء کو ہوئی۔ نام و نسب نام سید صدر الدین محمد ، خواجہ بندہ نوازگیسو دراز تخلص، کنیت ابو الفتح اور لقب شہباز تھا۔ آپ صحیح النسب حسینی سید تھے۔ سلسلہ نسب اٹھارہ واسطوں سے حضرت امام حسین سے جا ملتا ہے۔ آپ کے والد سید یوسف حسینی راجو قتال قلعہ دہلی کے خاص ملازم تھے۔ آپ کی ولادت دہلی میں ہی ہوئی۔ اس کے بعد آپ کے والدین سلطان محمد تغلق کے حکم پر دولت آباد آ گئے اور یہیں سکونت اختیار کر لی۔ تعلیم و تربیت محمد تغلق کے حکم پر علماء، عمائدین اور مشائخین نے دہلی سے دولت آباد کا رخ کیا تو حضرت خواجہ بندہ نوازؒ بھی اپنے والد گرامی حضرت سید یوسف حسینی راجو قتال علیہ الرحمہ کے ساتھ دولت آباد پہنچے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم خلد آباد میں ہوئی، عبدالمجید صدیقی کے بقول شیخ بابو نامی ایک بزرگ نے انہیں اپنے مکتب میں پڑھایا اور حدیث و فقہ کے ابتدائی درس دئے تھے۔ اس کے بعد اپنے والد گرامی شاہ راجو قتال سے بھی علوم ظاہری و باطنی کا فیض حا...
Comments
Post a Comment