ہر انسان ایک تشنہءِ تکمیل فن پارہ ہے۔جسکی تکمیل کیلئے خدا ہر انسان کے ساتھ داخلی اور خارجی طور پر مصروفِ کار ہے ۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ خدا ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ انفرادی سطح پر معاملہ کرتا ہے کیونکہ انسانیت ایک بیحد لطیف اور نفیس مصوری کا شہکار ہے جس پر ثبت کیا جانے والا ہر ایک نقطہ پوری تصویر کیلئے یکساں اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
تذکرہ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز رحمتہ الله علیہ
حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز رحمۃ اللہ علیہبرصغیر کے ممتاز صوفی بزرگ ،علوم ظاہر و باطن جامع اور بلند پایہ کتب کے مؤلف ہیں۔ ولادت آپ کی ولادت 4 رجب 720ھ بمطابق 1321ء کو ہوئی۔ نام و نسب نام سید صدر الدین محمد ، خواجہ بندہ نوازگیسو دراز تخلص، کنیت ابو الفتح اور لقب شہباز تھا۔ آپ صحیح النسب حسینی سید تھے۔ سلسلہ نسب اٹھارہ واسطوں سے حضرت امام حسین سے جا ملتا ہے۔ آپ کے والد سید یوسف حسینی راجو قتال قلعہ دہلی کے خاص ملازم تھے۔ آپ کی ولادت دہلی میں ہی ہوئی۔ اس کے بعد آپ کے والدین سلطان محمد تغلق کے حکم پر دولت آباد آ گئے اور یہیں سکونت اختیار کر لی۔ تعلیم و تربیت محمد تغلق کے حکم پر علماء، عمائدین اور مشائخین نے دہلی سے دولت آباد کا رخ کیا تو حضرت خواجہ بندہ نوازؒ بھی اپنے والد گرامی حضرت سید یوسف حسینی راجو قتال علیہ الرحمہ کے ساتھ دولت آباد پہنچے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم خلد آباد میں ہوئی، عبدالمجید صدیقی کے بقول شیخ بابو نامی ایک بزرگ نے انہیں اپنے مکتب میں پڑھایا اور حدیث و فقہ کے ابتدائی درس دئے تھے۔ اس کے بعد اپنے والد گرامی شاہ راجو قتال سے بھی علوم ظاہری و باطنی کا فیض حا...
Comments
Post a Comment